ایک طرف سمندر کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی دوسری طرف تیز ہوا کا جھونکا ،بارش کی ہلکی بوندیں۔۔۔  ۔۔۔۔۔  



عنایہ خود کو سمیٹتی ہوئی گھر کی طرف دوڑی جارہی تھی اتنے میں اس کی نظر ایک کبوتر پر پڑی جو شدید زخمی حالت میں زمین پر بے سود پڑا تھا ۔۔۔ ۔۔۔


عنایہ کبوتر کے قریب آئی اور اسے اٹھا کر اپنے دوپٹے سے خون صاف کرنے لگی، کبوتر میں ابھی سانس باقی تھی۔۔۔عنایہ کا چہرہ خوشی سے تم تما اٹھا ایک طرف اس کے زندہ ہونے کی خوشی تو دوسری طرف اس کو بچانے کے لیے کوشش کی امنگ۔۔۔  

 

اچانک وقار کا گزر سمندر کے کنارے سے ہوا۔۔۔ 

وقار ایک ٹھاٹھ باٹھ پرسنیلٹی کا خوبرو نوجوان تھا۔۔۔جو کہ تھری پیس میں ملبوس ، گلے میں مفلر ،ہلکی سی مونچھیں ، لمبے لمبے بال جو کہ اس کے کانوں کو چھوتے تھے ، چہرے پر ہلکا سا رعب اور ہاتھ میں ایک کتابچہ ۔۔۔جو کہ اس کی سٹڈی سے دلچسپی کو ظاہر کرتا تھا ۔۔ ۔۔۔


عنایہ کبوتر کو ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے  ہوئے گھر کی طرف دوڑی جارہی تھی راستے میں کبوتر پھڑ پھڑا نے لگا۔۔۔۔اس کی سانسیں تیز ہونے لگیں جیسے کہ کبوتر میں اس کی جان ہے۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور مسلسل دوڑے جارہی تھی ۔۔۔اتنے میں اس کی نظر ایک خوبصورت گاڑی پر پڑی جو کہ سمندر کے کنارے رکی تھی ۔۔۔۔۔


عنایہ دوڑتی ہوئی گاڑی کے قریب آئی ۔۔۔۔گاڑی میں جھانکا تو ایک خوبصورت مفلر گاڑی کی سیٹ پر رکھا تھا شاید یہ وقار کا مفلر تھا جسے وہ گاڑی کی سیٹ پر چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔


عنایہ بارش میں مکمل بھیگ چکی تھی اس نے دل ہی دل میں سوچا یہ مفلر اٹھا کر اوڑھ لوں اتنے میں وقار کی نظر گاڑی پر پڑی جہاں ایک خوبصورت لڑکی کے ریشم کی طرح  نرم و ملائم اور لمبے لمبے بالوں کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ ۔


ایک لمحے کے لیے وہ رکا ، پھر اچانک سے گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔۔  جیسے ہی عنایہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور مفلر اٹھانے لگی پیچھے سے وقار نے تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔۔


تم میری چوری کر رہی تھی ؟؟؟ 


تمہیں معلوم نہیں تھا تم نے کس کے ساتھ پنگھا لیا ہے ؟

عنایہ منہ پہ ہاتھ رکھے پیچھے کی طرف لپکی ۔۔۔۔

کبوتر اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پہ جاگرا ۔۔۔۔۔۔

عنایہ زارو قطار رونے لگی ۔۔۔۔۔ لیکن کبوتر اس وقت تک مر چکا تھا ۔۔۔۔وقار( عنایہ کو گھورتے ہوئے ) بند کرو اپنی ڈرامے بازیاں اٹھو اور جاؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔


عنایہ آنسو پونجھتے ہوئے دبے پاؤں اٹھی اور گھر کی طرف چل دی ۔۔۔ عنایہ کا دوپٹہ ہوا میں اڑتا ہوا وقار کہ اوپر آگرا۔۔۔۔۔۔۔۔عنایہ ہوش و حواس کھوئے بے پروا ہو کر آہستہ آہستہ چلتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔


وقار ایک لمحے کے لیے رکا پھر نہ جانے کیا سوجھی عنایہ کا دوپٹہ اٹھائے اس کے پیچھے چل دیا شاید دل گھائل ہو رہا تھا یا انسانیت جاگ اٹھی تھی ۔۔۔۔ 


جوں ہی وہ کچھ آگے بڑھا بارش تیز ہوگئ اور بجلی کی گرج چمک کی آواز میں کچھ دکھائی ،سنائی نہیں دے رہا تھا ۔۔  ہر طرف جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں ۔۔۔۔اچانک عنایہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئ۔۔۔۔ وقار نے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود ۔۔   ۔۔۔۔

 


عنایہ ایک سولہ سالہ لڑکی تھی۔۔۔۔نہایت خوبصورت خدوخال ،سیاہ لمبے لمبے گھنے بال ،ماتھے پہ دو لٹیں گری ہوئیں،  بڑی بڑی آنکھیں، دراز قد، تیکھی ناک ، گلابی ہونٹ ، گندمی رنگ اور بائیں رخسار پہ ایک کالا تل جو کہ سونے پہ سہاگا تھا ۔۔۔  

 

میٹرک کے پیپرز دینے کے بعد ماں کی محبت سے محروم ہوگئ ۔۔۔۔۔۔ایک طرف یتیمی دوسری طرف گھر کی زمہ داری ، بھائی بہنوں کو ماں بن کر پالنے والی لڑکی جو کبھی تھک کر رونے لگ جاتی تو کبھی آنسو پونچھ کر بہادر بننے کا ناٹک کرتی ۔۔  وقت تیزی سے گزرتا گیا ۔۔۔۔میٹرک میں ٹاپ کرنے والی بچی اب تعلیم کو خیر باد کہہ کر گھرداری پر توجہ دینے لگی ۔۔۔۔ 


خدا بھی اپنے بندوں کو آزمائشوں سے آزماتا ہے ۔۔ 3 ماہ بعد والد کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔۔۔   بڑی بہن ہونے کے ناتے بھائی بہنوں کی پرورش کی زمہ داری عنایہ پر عائد ہوتی تھی۔۔۔۔۔اس دوران مصائب و آلام نے گھیرا ڈال دیا ۔۔۔۔۔ در در کی ٹھوکریں مقدر بن گئیں ،اپنوں نے منہ موڑ لیا تعلیم رک گئی ۔۔۔۔۔اس پر فتن دور میں جگہ جگہ نوکری کی تلاش میں گھومتی گھومتی تھک ہار کر گھر آجاتی جہاں بھی جاتی تعلیم کی کمی کے باعث کوئی نوکری ملنے کا چانس نہیں تھا ۔۔۔اب تو گھر کا چولہا جلنا بند ہوگیا ۔۔۔۔جمع پونجی ختم ہوگئی۔۔۔۔۔فکر روز بہ روز بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔کوئی جائے رفتن نہ تھی۔۔۔۔۔۔


آخر کار محلے میں ایک بنگلے میں صفائی کا کام کرنے لگی ۔۔۔۔۔

بنگلے کی ملکہ نہایت خوش مزاج ، ہنس مکھ، سلجھی ہوئی، نرم دل اور خوبصورت خاتون تھیں جن کا ایک ہی بیٹا تھا اور وہ ہاسٹل میں رہتا تھا۔۔۔۔ ملکہ صاحبہ عنایہ کو بیٹی کی طرح پیار کرنے لگی اور ان کے گھر کے تمام اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری لی۔۔۔۔ 

عنایہ کام کاج سے فارغ ہو کر ملکہ صاحبہ کے پاس بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتیں اس طرح تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔۔۔۔ 

دوسری طرف وقار ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا۔۔۔۔لاڈ پیار کے باوجود فرمابردار ، سلجھا ہوا ، اور اچھی عادات کا مالک تھا جبکہ طبیعت میں تھوڑی اکڑ اور غصہ ضرور تھا جو کہ کسی غلط کام پر برداشت سے باہر ہوجاتا۔۔۔۔ 


آج ملکہ صاحبہ کے بیٹے نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا ملکہ اس قدر خوش تھیں کے پھولے نہ سمائی ، مٹھائیاں تقسیم کیں ۔۔۔۔پارٹیز ارینج کیں ۔۔۔ گاؤں کے تمام لوگوں کو کھانے پر دعوت دی ۔۔۔جس میں عنایہ کے بھائی اور بہنوں نے بھی شرکت کی جبکہ عنایہ بوجہ بیماری شرکت نہ کر سکیں ۔۔۔۔ 

فنکشن ختم ہوتے ہی ملکہ صاحبہ کا بیٹا اپنے کمرے کی جانب بڑھا اور اپنی کتابوں کا ڈھیر بید پر دیکھ کر حیران ہوا، غصے سے آگ بگولا کمرے سے باہر آیا اپنی ماں کی طرف لپکا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے منہ ہی منہ میں بنبنانے لگا ۔۔۔۔ ملکہ صاحبہ پیار سے گویا ہوئیں  بیٹا کیا بات ہے آج تو خوشی کا دن ہے آج کیوں موڈ آف کر لیا ؟؟؟

بیٹا ! مجھے یہ بتائیں کے میری کتابیں کس نے بید پر بکھیر رکھی ہیں ؟؟؟ کس نے اٹھائی ہیں میری کتابیں میں اسے چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔ آپ نے کسی کو ہاتھ ہی کیوں لگانے دیا ؟ کس کی جرات ہوئی میرے کمرے تک جانے کی ؟ کہاں ہے آپ کی ملازمہ اسے کہیں کہ میرا کمرہ ٹھیک کرے ، ڈھنگ سے صفائی بھی نہیں کرنی آتی کیسی ملازمہ ہیں؟؟؟

ماں نے شفقت بھرا ہاتھ بیٹے کے سر پہ پھیرتے ہوئے کہا بیٹا ریلیکس…... یہ کتابیں میں نے ہی نکالی ہیں جو لڑکی ہمارے گھر کام کرتی ہے نا اسے پڑھنے کا بہت شوق ہے اس بیچاری کے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں ایک چھوٹا بھائی ہے اور دو بہنیں ۔۔۔۔۔۔ ان کے تمام اخراجات کی زمہ داری میں نے لی ہے اور عنایہ کو تو میں نے بیٹی بنا کے رکھا ہوا ہے ۔۔۔میں تو چاہتی ہوں وہ کالج جائے، سٹڈی کرے، اپنے خواب پورے کرے تاکہ اسے والدین کی کمی محسوس نہ ہو ، انسانیت کا تقاضا یہی ہے نا بیٹا ؟  

بیٹا! ہوں بس سب کی پرواہ ہے آپ کو سوائے میرے ۔۔۔۔۔۔منہ بسورتے ہوئے چل پڑتا ہے۔۔۔۔ 

اگلے دن عنایہ آتی ہے تو ملکہ کا بیٹا ہاسٹل جا چکا ہوتا ہے۔۔۔۔

ملکہ صاحبہ عنایہ کو گلے لگاتی ہیں اور اسے خوشخبری دیتی ہے کہ وہ کل سے کالج جانا شروع کردے۔۔۔۔

عنایہ خوشی خوشی کالج جاتی ہے اور دل لگا کر پڑھتی ہے ۔۔۔۔ہر بار اول پوزیشن عنایہ کا مقدر بن جاتی ہے ۔۔۔۔ 

دوسری طرف وقار کی بھی یونیورسٹی تعلیم مکمل ہونے والی ہوتی ہے ۔۔ اب اسے دن رات عنایہ کے خیالات آتے ہیں وہ چاہ کر بھی اس منظر کو بھول نہیں پاتا۔۔۔۔۔

وقار ہر شام سمندر کے کنارے جاتا ہے اور عنایہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر واپس آ جاتا ہے لیکن اسے عنایہ دوبارہ نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔

لیکن اسے یقین ہوتا ہے کہ ایک دن عنایہ کو وہ ڈھونڈ لے گا اور پھر اس سے اپنے رویے کی معافی مانگے گا۔۔۔۔۔سالوں گزر گئے مگر عنایہ کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔شاید وہ کبوتر کو اپنے ہاتھوں سمندر کے کنارے مرتا دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی ہے کہ دوبارہ سمندر کا رخ ہی نہیں کیا۔۔۔۔۔  

عنایہ کی تعلیم کے دوران ہی اسے یونیورسٹی میں ایک لڑکا پروپوز کرتا ہے جس کا زکر وہ ملکہ صاحبہ سے کرتی ہیں اور ملکہ صاحبہ عنایہ کی مرضی اور خوشی کو دیکھتے ہوئے عنایہ کا رشتہ اس سے طے کر کے شادی کر دیتی ہیں۔۔۔ 

شادی ہوتے ہی عنایہ پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے ۔۔۔عنایہ کا شوہر شرابی نکلتا ہے جو کہ نشے کی حالت میں ہر وقت عنایہ کو مار پیٹ کر لہو لہان کر دیتا ہے ساس لڑاکا اور ظالم ہوتی ہے جو سارا دن عنایہ سے کام کروا کر روٹی تک نہیں دیتی ۔۔۔۔۔ عنایہ چپ چاپ ہر ظلم سہتی ہے اور اسے رب کی رضا سمجھ کر سر جھکا دیتی ہے شاید اسے بھی یقین ہے کہ یہ برا وقت بھی ٹل جائے گا۔۔۔۔۔

شادی کا کچھ عرصہ گزرتے ہی عنایہ کے شوہر کا نشے کی حالت میں ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور روح پرواز کر جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

عنایہ پھر سے اکیلی رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔بہنیں بھائی شہر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جب عنایہ گھر لوٹتی ہے تو گھر کو تالا لگا ہوتا ہے ایک بزرگ بتاتا ہے کہ اس گھر میں رہنے والے کہیں اور جا چکے ہیں آپ کی بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور آپ کے بھائی نے یہ جگہ بیچ دی ہے اب نہیں معلوم وہ کہاں گئے؟

عنایہ سر پر ہاتھ رکھے وہیں دیوار کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔ جیسے سب کچھ کھو دیا ہو ۔۔۔۔ جیسے قدرت کی آزمائشیں سخت ہو گئی ہوں ۔۔۔۔ جیسے قدرت ابھی بھی میرا صبر آزمانا چاہتی ہے۔ِ۔ ۔۔۔۔۔

عنایہ روتے ہوئے دیوار کے ساتھ سر لگا کے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔۔۔۔۔اتنے میں ایک ٹیکسی رکتی ہے اور کچھ لوگ اترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جیسے عنایہ ان کی خوفناک شکلیں دیکھتی ہے ڈر کر بھاگنے لگتی ہے۔۔۔۔ 

وہ لوگ اسے پکڑ کر گاڑی میں ڈالتے ہیں اور کسی ویرانے جنگل میں لے جاتے ہیں۔۔۔۔۔عنایہ چیختی رہتی ہے مگر کوئی اس کی نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔  ہر ظلم و زیادتی کو سہتی ہے اور اب تو شاید ظلم برداشت کرنا ہی اس کی زندگی بن گیا ہے ۔۔۔۔ 

لیکن اسے یقین ہے کہ خدا اسے ان ظالموں کی قید سے ضرور نکالے گا ۔۔۔۔۔۔۔وہ سجدہ ریز ہو جاتی ہے اور خدا سے مدد مانگتی ہے۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔

لیکن خدا بھی اپنے بندوں کو آزمائشوں میں ڈال کر آزماتا ہے۔۔۔ 

کچھ عرصہ یوں ہی گزر گیا ۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ عنایہ انتہائی بیمار ہونے لگی ۔۔۔۔ایک دن خدا نے کرم کیا اور وہ ان ظالموں کی قید سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔۔۔ 

دوسری طرف وقار عنایہ کے لیے دن رات دعائیں مانگتا ۔۔۔۔اور ہر شام سمندر کے کنارے اس کا انتظار کرتا اسے ابھی بھی امید تھی کہ عنایہ کبھی مل جائے گی۔۔۔۔۔ ۔

ادھر ملکہ صاحبہ بہت پریشان تھیں کیونکہ انہیں عنایہ کی کوئی خبر نا تھی ۔۔۔ ایک دن عنایہ کے سسرال جانے کا سوچا اور ساتھ ہی ساتھ گلے شکوے ذہن نشین کرنے لگی کہ پوچھوں گی عنایہ سے کہ ماں بنا کے چھوڑ دیا ؟شادی کے بعد ملنے ہی نا آئی؟ 

اور ایک طرف دل ہی دل میں ڈرنے لگی کہ خدا کرے بچی خیریت سے ہو ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔



صبح ہوتے ہی تیار ہوئی ، بیٹے کو کہا کہ وہ اسے عنایہ کے گھر چھوڑ آئے ۔۔۔۔۔۔بیٹا! امی جان کون ہے یہ عنایہ جس کی اتنی فکر ہے آپ کو ؟ آج میں بھی مل کر آؤں گا پتہ تو چلے کونسی نوابزادی ہے جس نے آپ کے دل میں گھر کر لیا ہے ؟ 


ملکہ صاحبہ! بیٹا آپ اس سے ملیں گے نا تو آپ بھی اس کی تعریف کیے بغیر رہ نہیں پائیں گے ۔۔۔۔انتہائی سگھڑ ، بہت پیاری اور فرمانبردار بچی ہے۔۔۔۔ میرا تو دل تھا عنایہ کو اپنی بہو بناؤں گی لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دیا ۔۔۔


بیٹا ! چلو دیکھتے ہیں آپ کی پسند۔۔۔ میں تو ابھی شادی نہیں کرنے والا۔۔۔ 

ملکہ صاحبہ گویا ہوئیں کیوں بیٹا کوئی پسند ہے کیا ؟

بیٹا! چھوڑیں اماں چلیں۔۔۔۔دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔میں بھی تو دیکھوں آپ کی اپنے بیٹے کے لیے کیسی پسند تھی ؟

ماں زیر لب مسکرا دی۔۔۔۔۔ 

عنایہ کے سسرال پہنچتے ہی ملکہ صاحبہ خوشی سے پھولے نہ سمائی۔۔۔۔۔۔  جھٹ سے گاڑی سے اتری اور گھر میں داخل ہوگئی۔۔۔۔ 


سامنے بر آمدے میں عنایہ کی ساس بیٹھی ہوئی نظر آئی۔۔۔۔ ملکہ صاحبہ مخاطب ہوئیں کیسی ہیں آپ ؟ میری بیٹی عنایہ کہاں ہے؟ شادی کو سال ہونے والا ہے ملنے ہی نہیں آئی ؟ اپنی ماں کو بھی بھول گئی ایسا کیا کردیا آپ لوگوں نے ؟ 

عنایہ کی ساس گویا ہوئیں۔۔۔۔    


بہت اچھی تربیت کی تھی آپ نے اپنی بیٹی کی نا؟ شوہر مر گیا اور وہ اس گھر سے چلتی بنی ۔۔۔۔ہم سب بھی تو تھے نا ؟


پتا نہیں کس کے ساتھ بھاگ گئ ہے ۔۔۔میں نے منع بھی کیا تھا بیٹے کو کہ پڑھی لکھی لڑکی سے شادی نہ کرو ۔ ۔۔۔میرا بیچارہ معصوم بیٹا ؟ پتہ نہیں کیسے عنایہ کے چنگل میں آ گیا۔۔۔   

وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اس ڈین کے پیچھے ۔۔۔۔۔۔ ۔وہ بلک بلک کر رو رہی تھیں اور ملکہ صاحبہ ششدر۔۔۔      خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھیں۔۔۔۔۔ 

دبے پاؤں واپس مڑی ۔۔۔۔ باہر بیٹا انتظار میں کھڑا تھا ۔۔  ۔۔۔۔

 

کیا ہوا ؟ اتنی جلدی واپس ہو لیں ؟ ابھی تو مجھے بھی ملنا ہے آپ کی بیٹی سے۔۔۔۔   ملکہ صاحبہ تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو گئیں۔ ۔۔۔۔۔

جیسے ہی ہوش میں آئیں بیٹے کو سارا ماجرا سنایا اور اگلے دن عنایہ کے ماں باپ کے گھر جانے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ادھر عنایہ ویران و سنسان جنگلوں میں پناہ لینے پر مجبور تھی ۔۔۔۔۔ کبھی جانوروں کے ڈر ،خوف سے سہم کے بیٹھتی ، کبھی بھوک پیاس سے نڈھال زمین پر گر جاتی ۔۔۔۔۔ صبح ہوتے ہی سفر شروع کرتی ۔۔۔۔۔بس ایک ہی سوچ تھی اب کہاں جاؤں ؟ کہاں رہوں ؟ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ میرا بھائی اور بہنیں کہاں ہیں ؟ کبھی ملکہ صاحبہ کے گھر کا خیال آتا ۔۔۔۔مگر نا معلوم جگہ پر بسیرا تھا۔۔۔۔۔۔ہر طرف جنگل ہی جنگل نظر آتا تھا۔۔۔۔۔   


چلتے چلتے راستے میں ایک خوبصورت عورت درخت کے بیٹھی نظر آئی ۔۔۔۔۔۔عنایہ کو دیکھتے ہی مخاطب ہوئی ، بیٹی لگتا ہے بہت تھکی ہوئی ہو ؟ نا جانے زندگی سے یا سفر سے ؟

یہاں آؤ۔۔۔۔ ۔میرے پاس بیٹھو۔۔۔۔۔۔ 

عنایہ اس خاتون کے قریب آکر بیٹھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔۔ اپنا قصہ سنایا اور مدد طلب کی کہ مجھے اس جنگل سے نکال دیں ۔۔۔۔میں اپنے بھائی اور بہنوں کے پاس جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ 

بڑھیا عورت نے اسے ایک انگوٹھی دی اور کہا جاؤ بیٹا آپ کو آپ کی منزل مل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔


چلتے چلتے راستے میں عنایہ کو ایک گاڑی دکھائی دی جس میں ایک نوجوان اور ایک خوبصورت لڑکی بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

عنایہ گاڑی روکنے کے چکر میں گاڑی کے سامنے آگئی ۔۔۔۔ نوجوان اترا اور جیسے ہی چہرہ دیکھا تو اس کی چیخ نکل گئی۔۔۔۔۔عنایہ آپی ؟؟؟؟؟؟؟؟


یہ نوجوان دراصل عنایہ کا چھوٹا بھائی تھا اور وہ خوبصورت لڑکی عنایہ کی بھابی۔۔۔۔ ۔ 

وہ عنایہ کو ہاسپٹل کے بعد گھر لے آئے ۔۔۔۔۔۔ گھر بہت شاندار  تھا ۔۔۔۔  عنایہ نے آنکھیں کھولتے ہی اپنے بھائی کو گلے لگا لیا اور پھر تمام صورت حال بتائی۔۔۔۔۔۔۔بھائی زارو قطار رونے لگا اور معافی طلب کی ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں عنایہ کو دونوں بہنیں بھی مل گئیں جو کہ اپنے گھروں میں خوش حال زندگی گزار رہی تھیں۔۔۔۔۔۔


یہاں ملکہ صاحبہ اگلے روز عنایہ کے والدین کے گھر گئیں ۔۔۔۔۔۔گھر میں کوئی کرائے دار رہ رہے تھے ۔۔۔۔۔انہوں نے بتایا کہ وہ کسی عنایہ کو نہیں جانتے ۔۔۔۔ملکہ صاحبہ نہایت غمگین واپس پلٹیں راستے میں وہی بزرگ صاحب ملے۔۔۔۔۔۔۔

ان سے پوچھنے پر پتا چلا کہ عنایہ یہاں آئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔مگر اب ان کا پتہ نہیں..... 


ملکہ صاحبہ ناامید ہو کر واپس چلی گئیں۔۔۔۔۔اب ان کی صحت دن بہ دن بگڑتی جارہی تھی اور وہ عنایہ کے غم میں نڈھال ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ 


یہاں عنایہ بھی ملکہ صاحبہ کو یاد کرتی تھیں اور اپنے بھائی سے وعدہ کیا کہ وہ اسے ملنے ضرور جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ 


ایک دن ملکہ صاحبہ نے اپنے بیٹے سے کہاکہ وہ شادی کر لے تاکہ میں اسکی خوشیاں دیکھ سکوں۔۔۔۔۔۔

بیٹے نے صاف انکار کردیا کہ ابھی نہیں کرنی۔۔۔۔لیکن ماں کی پریشانی اور بیماری کو دیکھتے ہوئے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ماں کی پسند سے شادی کر لے گا۔۔۔    


جیسے ہی اس نے حامی بھری ملکہ صاحبہ نے اس کا رشتہ اپنی بھانجی سے طے کر کے شادی کردی۔۔۔۔۔۔ 

شادی کے تیسرے روز عنایہ ملکہ صاحبہ کے گھر آئی تو ان کی بہو کو دیکھ کر حیران ہوئی اور ملکہ صاحبہ سے شکوہ کیا کہ اکلوتے بیٹے کی شادی میں بیٹی کو بھول گئی ؟ 

ملکہ صاحبہ نے عنایہ کو گلے لگایا اور خوب روئی۔۔۔۔۔ 

درد دکھ بانٹے اور پھر سے عنایہ کو کہا کہ وہ اپنی جگہ دوبارہ آجائے اس کے بغیر گھر ویران لگتا ہے ۔۔  


مگر اب عنایہ کے بھائی نے اجازت نہ دی اور ملکہ صاحبہ سے عنایہ کی ہر ہفتے ملاقات کا وعدہ کیا۔۔۔ کچھ عرصے بعد۔۔۔۔ 

ملکہ صاحبہ کے گھر خوبصورت پھول کھلا لیکن اس کی ماں یعنی ملکہ کہ بہو اس دار فانی سے کوچ کر گئ۔۔۔۔۔۔ 

ایک مرتبہ پھر سے قدرت نے آزمانا چاہا اور ملکہ کے گھر صف ماتم بچھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ایک طرف چھوٹا بچہ ماں کی ممتا سے محروم ہوگیا دوسری طرف بھانجی کی جوانی کی موت نے گہرا صدمہ پہنچایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملکہ صاحبہ کا بیٹا دن رات باہر رہنے لگا۔۔۔۔۔ملکہ صاحبہ کی طبیعت خراب ہونے لگی تو دوبارہ عنایہ کو بلوا بھیجا۔۔۔۔۔۔۔ 


عنایہ پھر سے ملکہ صاحبہ کے گھر آگئ۔۔۔۔۔۔ چھوٹے بچے کو بیٹا سمجھ کر پالنے لگی اور ملکہ صاحبہ کو ہمیشہ ماں کا درجہ دیا ۔۔۔      ۔۔۔۔۔

دوسری طرف وقار روزانہ سمندر کے کنارے جاتا۔۔۔۔۔۔ نڈھال ہوکر وہیں بیٹھا رہتا نہ اسے دن کی پرواہ تھی نا رات کی ۔۔۔وہ بس عنایہ کے انتظار میں بیٹھا رہتا ۔۔۔۔۔کبھی جھاڑیوں میں اسے ڈھونڈتا ، کبھی خدا سے مانگتا ، جیسے وہ پر امید تھا کہ اسے عنایہ ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔


ایک دن عنایہ ملکہ صاحبہ کے کمرے کی صفائی کرنے لگی تو اسے الماری میں اپنا دوپٹہ نظر آیا جو کہ اس نے سمندر کے کنارے چلتے ہوئے کبوتر کو چھپانے کے لیے اتارا تھا اور پھر وہ دوپٹہ وہیں رہ گیا تھا جب وقار نے اسے ڈانٹا تو وہ دوپٹہ وہیں چھوڑ کر بھاگ گئی تھی ۔۔۔۔۔  ۔ ۔ ۔۔۔


جیسے ہی اس نے دوپٹہ اٹھایا تو ملکہ صاحبہ آگئیں اور اس نے وہ دوپٹہ دوبارہ الماری میں رکھ کر لاک لگا دیا ۔۔۔۔ ۔۔ایک بار پھر سے اسے وہ تمام باتیں یاد آنے لگیں اور وقار کی شکل اس کے دماغ میں گھومنے لگی۔۔۔۔۔


ہر وقت وقار اس کے ذہن پہ سنوار رہتا اور اس نے خود سے عہد کیا کہ وہ اسے ڈھونڈ کر رہے گی۔۔۔۔۔ 


وقت گزرتا گیا اور وہ ہر وقت وقار کے بارے میں سوچتی رہتی۔۔۔  لیکن اس کے دماغ میں ایک بات اٹک گئی تھی کہ آخر میرا دوپٹہ یہاں کیسے آیا ؟؟؟؟؟؟


کئی بار اس نے ملکہ صاحبہ سے پوچھنے کی کوشش کی مگر ہمت نہ کر پائی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ وقار کو نام سے نہیں جانتی تھی اور نا ہی وقار عنایہ کا نام جانتا تھا۔۔۔۔لیکن دونوں کو بس شکل یاد تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔


وقت گزرتا گیا اور عنایہ کے ساتھ ان کی بھابی کا رویہ روز بہ روز تبدیل ہوتا گیا ۔۔۔۔۔روزانہ طنز سننے کو ملتے کہ بد نصیب لڑکی ہو بیوہ ہو کے ہمارے سر پہ کیوں بیٹھی ہو کہیں شادی کرلو اپنی نحوست ہمارے گھر سے لے جاؤ ۔۔۔۔۔

عنایہ دن رات روتی ۔۔۔اللہ سے دعا مانگتی اسے یقین تھا کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔    


بیچاری سارا دن روتی رہتی ۔۔۔۔۔گھر کے سارے کام کرتی اور بھابی کے سامنے چوں چراں نہ کرتی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر یہاں سے نکال دیا گیا تو پھر سے در بدر ہوجاؤں گی۔۔۔۔۔۔بھابی نے ملکہ صاحبہ کے گھر سے منع کر دیا۔ ۔۔۔۔۔اب ہر وقت بھابی کے پاس رہ کر اس کے طنز سنتی ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن اپنے والدین کے گھر جانے کا ارادہ کیا ۔۔۔ ساتھ بہنیں بھی تھیں ۔۔۔۔۔۔چلتے چلتے ان کا گزر سمندر سے ہوا ۔۔۔۔۔۔ اس دوران عنایہ کی نظریں کسی کو ڈھونڈنے لگیں۔۔۔۔۔۔عنایہ خاموشی سے زمین پر بیٹھ گئی۔۔۔۔بہنوں کے پوچھنے پر سارا قصہ سنایا ۔۔۔۔۔اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ واپسی پر ملکہ صاحبہ کے گھر جائیں گے اور اس دوپٹے کی حقیقت پوچھیں گے کہ وہ دوپٹہ انہیں کیسے ملا ؟؟؟


اپنے والدین کے گھر پہنچے تو کرایہ داروں سے پتا چلا کہ ملکہ صاحبہ اور اس کا بیٹا کافی بار ڈھونڈنے آئے تھے مگر انہیں کچھ علم نہ ہوسکا۔۔۔۔۔


واپسی پر ساری بہنیں ملکہ صاحبہ کے گھر کی جانب مڑیں۔۔۔۔۔۔وہاں پہنچتے ہی عنایہ کی نظر ایک نوجوان پر پڑی جو وہی دوپٹہ اٹھائے گاڑی میں بیٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔لیکن عنایہ کی جانب اس کی پیٹھ تھی جس کی وجہ سے وہ پہچان نہ پائی کہ وہ کون تھا ؟


ملکہ صاحبہ کے گھر داخل ہوتے ہی باتوں میں سب ایسے مشغول ہوئیں کہ یہ بھول ہی گئیں کے وہ یہاں کس کام سے آئی تھیں۔۔۔۔۔۔

حسن جو کہ ملکہ صاحبہ کا پوتا تھا اب 2 سال کا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔اس کا عنایہ کے ساتھ خوب لگاؤ تھا۔۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی عنایہ اپنے دکھ بھول گئی۔۔۔۔


دن وہیں گزارا اور شام کو واپس گھر چل دیں۔۔۔۔۔

گھر پہنچتے ہی بھابی نے عنایہ کے بھائی کو شکایت لگا دی ۔۔۔طرح طرح کے الزامات لگائے ۔۔۔۔۔ بھائی نے عنایہ کو خوب مارا۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک کے لہو لہان کر دیا ۔۔      ۔۔۔۔۔۔ 


اچانک عنایہ شدید بیمار پڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔بھابی نے کھانا پینا بند کردیا عنایہ کے لیے۔۔۔۔اور وہ دوبارہ سے فاقے کاٹنے لگی۔۔۔۔۔۔


وقت گزرتا گیا عنایہ کے ساتھ بھائی اور بھابی کے تعلقات خراب ہوتے گئے اور کچھ ہی دنوں میں انہوں نے عنایہ کو گھر سے نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

عنایہ روتی ، چیختی بہنوں کے پاس گئ ۔۔۔۔۔۔کچھ عرصہ وہاں گزارا تو سب تنگ آ گئے اور عنایہ کو شادی کرنے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔


عنایہ جس نے ان بہنوں اور بھائی کو پالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی آج ان کی محتاج بن کے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔

آخر کار ایک پرائیویٹ سکول میں جاب مل گئی۔۔۔۔۔۔

عنایہ نے کرائے پر گھر لے لیا اور وہیں رہنے لگی۔۔۔۔۔اب اسے ملکہ صاحبہ کی رہ رہ کر یاد ستاتی تھی اور ان کے لیے دعا کرتی تھی کہ اگر وہ میری تعلیم مکمل نہ کرواتی تو آج میں پھر سے دوسروں کے رحم وکرم پہ در بہ در کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی۔۔۔۔۔۔۔۔


ایک دن بیٹھے بیٹھے ماں باپ کی یاد آئی تو گھر سے چل دی والدین کے گھر جانے کے بعد سمندر کے کنارے آ بیٹھی اور کچھ پرانی یادیں تازہ کیں۔۔۔۔۔۔

اتنے میں سورج ڈھلنے لگا عنایہ اٹھ کر چل دی۔۔۔۔۔اچانک اس کی نظر ایک گاڑی پر پڑی جو کہ سمندر کے کنارے رک گئی ایک نوجوان اترا اور سمندر کی طرف تکنے لگا۔۔۔۔۔ عنایہ دبے پاؤں چلنے لگی اس کی نظر گاڑی کی سیٹ پر پڑی جہاں اس کا دوپٹہ پڑا نظر آیا ۔۔۔۔۔


عنایہ اپنا دوپٹہ اٹھانے کے لیے لپکی ۔۔۔۔جیسے ہی اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔نوجوان گاڑی کی طرف لپکا اور گویا ہوا  تم میری چوری کر رہی تھی ؟ 

جیسے وقت کچھ سال پیچھے چلا گیا ہو۔۔۔۔۔۔عنایہ نے پلٹ کر دیکھا اس بار وقار نے تھپڑ نہیں مارا تھا بلکہ لہجے میں اداسی اور سنجیدگی تھی۔۔۔۔۔۔

عنایہ !۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔  وہ۔۔۔۔۔   یہ میرا دوپٹہ ہے۔۔۔۔۔۔


وقار کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور عنایہ سے مخاطب ہوا کہ میں بھی 4 سال سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔یہی دوپٹہ واپس دینے آتا تھا مگر آپ کبھی ملی ہی نہیں۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقار زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کان پکڑ کر عنایہ سے معافی مانگی۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر عنایہ تھی۔۔۔وقار تھا۔۔۔۔۔اور دونوں اپنے دل کا حال ایک دوسرے کو سنانے لگے۔۔۔۔  وقار نے بتایا کہ اس کی شادی ہوئی تھی جو کہ ان کی امی جان کی پسند تھی لیکن میرے دل میں کبھی اس کے لیے محبت نہ پیدا ہوسکی۔۔۔۔۔۔میرے دل میں صرف تم تھی عنایہ۔۔۔  ۔۔۔۔۔  

لیکن میں نے اپنا فرض نبھایا ہے میں نے ہمیشہ اسے توجہ اور عزت دی اور اب تو میرا ایک بیٹا بھی ہے پر افسوس ۔۔۔       ۔۔۔۔۔پھر خاموشی طاری ہوگئ۔۔۔۔۔۔۔۔

عنایہ گویا ہوئیں پھر؟ اب کہاں ہیں وہ؟ کیا آپ میری ملاقات کروائیں گے ان سے ؟

وقار!


نہیں ۔۔۔۔۔۔وہ اب نہیں رہیں ۔۔۔۔۔    

عنایہ نے ہلکے غمگین لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسمت ۔۔۔۔۔۔ میرا ہزبینڈ نہیں رہا۔۔۔۔ آپ کی بیوی ۔۔۔۔

وقار نے گہری سانس لی اور عنایہ کو کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟

میں زیادہ وعدے تو نہیں کرتا لیکن میں آپ کو خوش رکھنے کی مکمل کوشش کروں گا ۔۔۔   


عنایہ ! نہیں میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔۔میں چلتی ہوں گھر۔۔۔۔۔۔

وقار! میں آ پ کے جواب کا انتظار کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اور ہاں یہ لو اپنا دوپٹہ ۔۔۔ اب سنبھال لو پھر سے گر نا جائے۔۔۔۔۔۔  


عنایہ۔۔۔۔۔۔نہیں اب نہیں گر ے گا۔۔۔۔۔۔ عنایہ وہاں سے چل دی۔۔۔۔ گھر آتے ہی عنایہ سوچنے لگی کہ آخر یہ وقار ہے کون؟ اس نے سوچا کل وہ ملکہ صاحبہ کے پاس جا کر ان سے مشورہ کریں گی۔۔۔۔

یہاں وقار جیسے ہی اپنی امی جان کے پاس پہنچا۔۔۔۔۔خوشخبری دی کے جس کے پیچھے میں 4 سال گھومتا رہا آخر وہ آج مل ہی گئی ہے اب دعا کریں کہ وہ شادی کے لیے مان جائے ۔۔۔۔۔۔


ملکہ صاحبہ بہت خوش تھیں۔۔۔۔۔صبح ہوتے ہی عنایہ ملکہ صاحبہ کے گھر تشریف لائیں۔۔۔۔اور ضد کی کہ آج پہلے وہ سارے گھر کی صفائی کریں گی اس کے بعد آپ سے باتیں ہوں گی ۔۔۔ فورا سے وہ حسن کے بابا کے کمرے کی طرف لپکی اور الماری کھول کر اپنا دوپٹہ دیکھنے لگی۔    اتنے میں ملکہ صاحبہ آئیں اور کہا بیٹا کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟ حسن کے بابا کو پتا چلا نا کہ اس کی الماری کسی نے کھولی ہے تو غصہ ہوں گے۔۔۔۔۔۔


اتنے میں حسن کے بابا کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔۔۔اور کہا میری الماری ۔۔۔۔۔    ان کی نظر عنایہ پر پڑی تو ششدر رہ گئے ۔۔۔عنایہ تم ؟ یہاں ؟ عنایہ حیران و پریشان وقار کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔


ملکہ صاحبہ کیا آپ لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ؟ 

عنایہ بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقار نے اپنی ماں کو سارا قصہ سنایا ۔۔۔۔۔۔ملکہ صاحبہ حیران و پریشاں بیٹے کی طرف دیکھتی رہی کہ اگر مجھ پتا ہوتا کہ عنایہ ہی میرے بیٹے کی محبت ہے تو میں دونوں کو اتنا نہ تڑپاتی ۔۔۔۔۔۔کاش مجھے علم ہوتا تو ان دونوں بچوں کی زندگی برباد ہونے سے بچ جاتی ۔۔۔۔عنایہ تو میری اپنی بیٹی تھی اور مجھے تو بے حد پسند تھی۔۔۔۔


وقار ! امی جان اب جو ہو چکا ہے وہ ہوگیا ۔۔۔۔جانے دیجیے اور خدا کا شکر ادا کیجیئے کہ اس نے ہم دونوں کو ملا دیا ۔۔۔۔۔۔۔

ملکہ صاحبہ بہت خوش ہوئیں اور صبح صبح عنایہ کے گھر اس کا رشتہ کے کر پہنچ گئ۔۔۔۔   


عنایہ بھی ملکہ صاحبہ کو انکار نہ کر پائی کیوں کہ وہ انہیں ماں کا درجہ دیتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

اور بلآخر عنایہ اور وقار کی شادی دھوم دھام سے ہوئی ۔۔۔ ۔ حسن ان کا اکلوتا بیٹا تھا جسے عنایہ نے خوب پیار سے پالا۔۔۔۔۔۔

دوسری جانب  عنایہ کے بھائی اور بھابی کے حالات کافی خراب ہوگئے ۔۔ہر طرف گھر میں جھگڑا رہنے لگا ۔۔۔۔نوکری ختم ہوگئی ، فاقوں کی نوبت آ گئی اور گھر کا نظام درہم برہم ہوگیا۔۔ ۔

ان کے بھائی شدید بیمار ہوگئے ان کی بھابی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے بچوں کا پیٹ پالنے لگی ۔۔۔۔۔  پھر اسے رہ رہ کر عنایہ کی یاد آتی تھی۔۔۔۔۔بالاخر انہوں نے عنایہ سے معافی مانگی اور عنایہ نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو معاف کردیا۔۔۔۔۔۔


ایک دن دروازے پر اچانک دستک ہوئی عنایہ نے دروازہ کھولا تو سامنے اپنی پہلی ساس کا چہرہ نظر آیا۔۔۔۔ جو کہ اب مرجھا چکا تھا۔۔۔ جس سے صاف نظر آرہا تھا کہ وہ شدید بیمار رہی ہیں۔۔۔۔

عنایہ نے انہیں اندر آنے دیا۔۔۔۔۔۔پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔۔۔۔اور اپنے کیے کی معافی مانگی ۔۔۔۔۔


اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی کا بھی شوہر فوت ہوچکا ہے اور ساس نے گھر سے نکال دیا ہے اب اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ۔۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے اور اب اس کے نتائج میری بیٹی بھگت رہی ہے۔۔۔۔عنایہ نے اللّٰہ کی رضا کی خاطر انہیں بھی معاف کر دیا۔۔۔ 

 اب عنایہ ، وقار ، حسن اور ملکہ صاحبہ ایک خوبصورت ، پر سکون اور پر لطف زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔